ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / بھٹکل:فوریسٹ کی بربادی پر چیخ وپکار کرنے والے ہی یہاں ملزم!درختوں کی بے تحاشہ کٹائی کا اصل سچ

بھٹکل:فوریسٹ کی بربادی پر چیخ وپکار کرنے والے ہی یہاں ملزم!درختوں کی بے تحاشہ کٹائی کا اصل سچ

Mon, 08 Aug 2016 21:39:26    S.O. News Service

بھٹکل:8/اگست(ایس او نیوز)یہ کہانی بھٹکل تعلقہ کے اطراف فوریسٹ علاقہ کے نام پر مافیا کو جنم دینے والوں کی داستان بیان کرتی ہے تو عام عوام کا دکھڑا سناتی ہے! گذشتہ 5-6دنوں سے تعلقہ کے گورٹے فوریسٹ علاقے میں درختوں کی بربادی کے متعلق مقامی میڈیا میں خبریں شائع ہورہی تھی، مگراصل سچ اب جاکر ظاہر ہواہے۔

فی الحال تعلقہ کے گورٹے فاریسٹ علاقے کا سروے نمبر 220اور 221تنازعہ کا مرکز بنا ہواہے۔ قریب 400ایکڑ زمین میں سے 59ایکڑ زمین 1978میں ہی کرناٹکا کاجو ترقی بورڈ کو لیز پر دی گئی تھی ، اب بھی متعلقہ زمین بورڈ کے اختیار میں ہی ہے، یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ سروے نمبر 221میں پانڈونائک نامی فرد کی ملکیت والی زمین بھی شامل ہےاور متعلقہ زمین کے اطراف پہلے سے ہی کمپاؤنڈ دیوارتعمیر کی گئی ہےاور اسی متعلقہ زمین پر بہت ہی کم (8فٹ سے بھی کم )ٹکڑا زمین محکمہ فاریسٹ کے ہونے کا تنازعہ ہے، جس کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ جی پی ایس سروے کے لئے لکھائوٹ ہونے کی بات فاریسٹ افسران کہہ رہے ہیں، لیکن اس سے متعلقہ نجی زمین کی فروخت کاری کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہونا بھی ایک حقیقت ہے۔ مگر بھٹکل میں زمین کی لالچ کچھ زیادہ ہی ہے، اسی وجہ سے زمین کے مالک مختلف وجوہات کی بنا پر اندرہی اندر کئی ایک نفرتوں کو جگہ دینے کی بات زمین کے اطراف سننے میں آتی ہے۔ کچھ دنوں پہلے زمین کے مالک نے اپنی زمین پر موجود درختوں کو فاریسٹ محکمہ کی اجازت کے بغیر کاٹ ڈالنے کا الزام ان کے کندھے پر ہے۔ اسی دوران اس سے متصل سروے نمبر 220کی زمین کے پرے کچھ نجی زمین ہے ، ریلوے لائن، قومی شاہراہ کی وسعت کے کاموں سے گھر کو جانے کے لئے دقت ہورہی ہے۔ متعلقہ نجی زمین کے مالک وینکٹ رمن موگیر نے ایک شخص کو بتایا کہ کاجو ترقی بورڈ کے حدود میں سے کچھ درختوں کو کاٹ کر جگہ بنائیں تو حکومت کی طرف سے سڑک تعمیر کئے جانے کا تیقن دئیے جانے کی باتیں سنی جارہی ہیں، سڑک کے لئے مجبورلوگوں نے ملازموں کی طرف سے اپنا کام کروانے کی کوشش میں ہیں۔مندرجہ بالا دونوں واقعات کے نتیجے میں 55کاجو، 1برگد کا درخت اور دو جنگلی نسل کے درختوں کوکاٹ کر برباد کیا گیا ہے۔ فاریسٹ افسران دونوں معاملات کے متعلق الگ الگ کیس درج کرلئے ہیں۔ تعجب خیز بات یہ ہے کہ جنہوں نے سڑک کی آس دلائی تھی انہوں نے ہی پلٹ کر درختوں کی بربادی کے متعلق چیخ پکار کئے جانے کی بات فاریسٹ افسران کی تفتیش سے پتہ چلاہے۔ درختوں کے دونوں معاملات کو ایک فرد (سروے نمبر221کے مالک )کے سر باندھنے کی کوشش بھی الٹی ہوگئی ہے۔

دونوں معاملات کے متعلق فاریسٹ محکمہ کے افسر اے سی ایف نندیش ریڈی نےوضاحت کی ہے  کہ دونوں معاملات کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کے بعد کیس درج کرلئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ  سروے نمبر 221پر نجی ملکیت والی زمین پر درختوں کو کاٹا گیا ہے، 220پر سڑک تعمیر کی وجہ سے درختوں پر کلہاڑی چلائی گئی ہے، اس کے لئے جو بھی وجہ سبب بنے ہیں انہیں ملزموں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔


Share: